بچھڑنا رسم الفت ہے کرشمہ ہو نہیں سکتا

Umar Alam (b. 2001)

بچھڑنا رسم الفت ہے کرشمہ ہو نہیں سکتا

تو میری ہو نہیں سکتی میں تیرا ہو نہیں سکتا

سنو میں بھی تو انساں ہوں مجھے بھی درد ہوتا ہے

یہ تم سے کون کہتا ہے کہ لڑکا رو نہیں سکتا

یہ محفل ہے محبت کی ترے مصرعوں میں نفرت ہے

کہا جو شعر تو نے وہ مکرر ہو نہیں سکتا

وہ سورج اور چراغوں کا سہارا بھی نہیں لیتا

جو راہ حق پہ چلتا ہے کہیں وہ کھو نہیں سکتا

سخن سے منسلک ہوں میں مرا مرکز محبت ہے

دلوں میں بیج نفرت کے کبھی میں بو نہیں سکتا