کسی کو وصل میں الفت کا ساگر مار دیتا ہے
Umar Alam (b. 2001)کسی کو وصل میں الفت کا ساگر مار دیتا ہے
کسی کو ہجر میں یادوں کا لشکر مار دیتا ہے
بڑی مشکل سے غزلوں میں ستم اس کے سناتا ہوں
مگر پھر آپ لوگوں کا مکرر مار دیتا ہے
محبت کر تو لوں گا میں کسی سے بھی مگر یارو
کوئی محبوب ایسا ہے جو یکسر مار دیتا ہے
میں جب بھی بھیجتا ہوں خط پہنچتا ہی نہیں اس تک
نجانے کون رستے میں کبوتر مار دیتا ہے
میں اپنے وصل کی یادوں پہ جی لیتا مگر جاناں
مجھے ہر پل جدائی کا وہ منظر مار دیتا ہے
زمانے سے تو لڑ لیتے ہیں ہم تا عمر پر عالمؔ
مرے جیسوں کو اکثر یہ مقدر مار دیتا ہے