امن و اماں کی خاطر کھائی تھیں ہم نے قسمیں
Uddhav Mahajan Bismilامن و اماں کی خاطر کھائی تھیں ہم نے قسمیں
لیکن رہا نہیں ہے یہ کام اپنے بس میں
حالات حاضرہ نے کی ایسی رہنمائی
گلشن کو ڈھونڈتے تھے ہم آ گئے قفس میں
قدرت کے چاہنے سے ہوگا علاج اس کا
اب غم نہیں ہے میرا دنیا کی دسترس میں
دیر و حرم سے میرا بس واسطہ ہے اتنا
یہ بھی ہے میرے بس میں وہ بھی ہے میرے بس میں
بسملؔ مرے عزائم دنیا سے ہیں نرالے
ہنس کر میں جی رہا ہوں رہ کر بھی خار و خس میں