وہ زباں اپنی کھولتا ہی نہیں
V. C. Rai Naya (b. 1941)وہ زباں اپنی کھولتا ہی نہیں
یہ نہیں ہے کہ بولتا ہی نہیں
ہر ادا اس کی کچھ تو ہے کہتی
تو مگر آنکھ کھولتا ہی نہیں
جتنا تم دو گے اتنا پاؤ گے
کم زیادہ وہ تولتا ہی نہیں
وہ چمن کی بہار کیا جانے
جو دریچوں کو کھولتا ہی نہیں
بند آنکھیں ترازو ہاتھ میں ہے
وہ مگر کچھ بھی تولتا ہی نہیں
جب یدھشٹھر بھی سچ پہ ٹک نہ سکے
آئنہ سچ سے ڈولتا ہی نہیں
کیوں نہ ہو کڑوی تیری بات نیاؔ
جھوٹ تو اس میں گھولتا ہی نہیں