کیسے کروں میں ضبط راز تو ہی مجھے بتا کہ یوں
S A Mehdiکیسے کروں میں ضبط راز تو ہی مجھے بتا کہ یوں
اے دل زار شرح راز مجھ سے بھی تو چھپا کہ یوں
کیسے چھپاؤں سوز دل تو ہی مجھے بتا کہ یوں
شمع بجھا دی یار نے جیسے تھا مدعا کہ یوں
ایک شکست ظاہری فتح بنے تو کس طرح
آئینہ دار بن گیا قصۂ کربلا کہ یوں
سوچ رہا تھا غم نصیب بگڑی بنے تو کس طرح
رحمت و لطف کردگار بن گئے آسرا کہ یوں
یہ جو کہا کہ پاس عشق حسن کو کچھ تو چاہیئے
دست کرم بدوش غیر یار نے رکھ دیا کہ یوں
پوچھا خطاب یار سے کس طرح کیجیے شام وصل
چپکے سے عندلیب نے پھول سے کچھ کہا کہ یوں
لطف جفائے دوست کا کیسے ادا ہو شکریہ
لذت سوزش جگر دینے لگی دعا کہ یوں
ہم نفس و حبیب خاص بنتے ہیں غیر کس طرح
بولی یہ سرد مہری عمر گریز پا کہ یوں
دونوں ہوں کیسے ایک جا مہدیؔ سرور و سوز دل
برق نگاہ ناز نے گر کے بتا دیا کہ یوں