مستقل اب بجھا بجھا سا ہے

S A Mehdi

مستقل اب بجھا بجھا سا ہے

آخر اس دل کو یہ ہوا کیا ہے

تم کو چاہا بڑا قصور کیا

تم ہی بتلا دو اب سزا کیا ہے

مانگ لوں ان کا دل اگر وہ کہیں

قتل کا تیرے خوں بہا کیا ہے

کیوں نفس میں کباب کی بو ہے

میرے سینے میں یہ جلا کیا ہے

مہر ہے ثبت قلب واعظ پر

داغ ماتھے پہ بد نما کیا ہے

حضرت دل ہیں کیوں اداس اداس

نا امیدی نے کچھ کہا کیا ہے

کافی اک لفظ ہے حضور خدا

یہ شب و روز التجا کیا ہے

وہی مانگو کہ ہو دعا مقبول

یعنی اللہ چاہتا کیا ہے

دیکھیے یہ کلام مہدیؔ میں

فکر انساں کی انتہا کیا ہے

میں نے آنکھوں سے اشک پونچھے تھے

رنگ دامن پہ لال سا کیا ہے

ذات مہدیؔ کی پھر غنیمت ہے

گر وہ اچھا نہیں برا کیا ہے