ہوتے رہے ہیں رد و بدل اس زمین پر
V. C. Rai Naya (b. 1941)ہوتے رہے ہیں رد و بدل اس زمین پر
کھنڈر بھی بن گئے ہیں محل اس زمین پر
پرواز پر ہو آج اڑو آسمان میں
آنا پڑے گا لوٹ کے کل اس زمین پر
مرنے کے بعد ہو کہ نہ ہو سورگ اور نرک
بوؤ گے جیسا پاؤ گے پھل اس زمین پر
اس آج کو پکڑ کے وسولو ہر ایک پل
آئے گا یہ نہ لوٹ کے کل اس زمین پر
شیشے سا تیرا دل ہے ذرا صاف رکھ اسے
بن جائے گا یہ شیش محل اس زمین پر
انجام عشق کا ہے جدائی یقین کر
بتلا رہا ہے تاج محل اس زمین پر
ہم سے کہا گیا نہ نیاؔ شعر ایک بھی
آئی اتر کے خود ہی غزل اس زمین پر