ہم چراغوں کو ہواؤں سے ڈراتا کیا ہے
Saabir Usmani (b. 1979)ہم چراغوں کو ہواؤں سے ڈراتا کیا ہے
جب کہ جیون میں سیہ شب سے زیادہ کیا ہے
زندہ رہنے کے لئے پوچھ اثاثہ کیا ہے
اک اداسی کے سوا دولت عظمیٰ کیا ہے
جن کو جینے کی تمنا ہے نہ خواہش کوئی
ان کو اے زیست بتا تیرا تقاضا کیا ہے
دشت انسان میں لوگوں کو ہے بس اپنی پڑی
کون سنتا ہے یہاں شور مچاتا کیا ہے
طے ہے بازار محبت میں خسارہ ہونا
یوں تو ہے جنس مگر مول وفا کا کیا ہے
یہ شب و روز جہاں غم بھی خوشی بھی میری
ان میں واعظ یہ بتا دے کہ خدا کا کیا ہے