کیا تھے اندیشے کہ ہر بات پہ روئے ہم تم

Saabir Usmani (b. 1979)

کیا تھے اندیشے کہ ہر بات پہ روئے ہم تم

عشق میں کتنے مقامات پہ روئے ہم تم

آج تک منزل مقصود نہ پائی نہ سہی

تھک کے بیٹھے نہ مسافات پہ روئے ہم تم

دو بدن ساتھ نہ ساون میں کبھی بھیگ سکے

خواہش موسم برسات پہ روئے ہم تم

ساتھ ہنسنے کی تمنا تھی بہت جس کے لئے

خوب جا جا کے مزارات پہ روئے ہم تم

ہم چراغوں کی طرح تھے تو یہ دنیا تھی ہوا

اپنی قسمت کی سیہ رات پہ روئے ہم تم

لوگ روتے ہیں کہاں غیر کے دکھ میں صابرؔ

اور درختوں کے جھرے پات پہ روئے ہم تم