کب رہائی کے طلب گار تھے ہم بھی تم بھی
Saabir Usmani (b. 1979)کب رہائی کے طلب گار تھے ہم بھی تم بھی
جب محبت میں گرفتار تھے ہم بھی تم بھی
چارہ گر چارہ گری اپنی بھلا بیٹھے تھے
اس قدر عشق میں بیمار تھے ہم بھی تم بھی
حال دل چہرے سے کوئی نہ کبھی جان سکا
اعلیٰ درجے کے اداکار تھے ہم بھی تم بھی
آج کیا کیا نہ جتن کرتے ہیں جینے کے لئے
کل تلک مرنے کو تیار تھے ہم بھی تم بھی