جب دل کو اضطراب کے نالوں نے آ لیا

Omaima Yusuf

جب دل کو اضطراب کے نالوں نے آ لیا

ہولے سے ہم نے نام ترا گنگنا لیا

کھلتے ہوئے گلوں کی مہک رائیگاں گئی

مجھ کو ترے حصار کی خوشبو نے آ لیا

جس طرح گل نے آندھیاں جھیلی ہیں رات بھر

ہم نے بھی غم کی تھاپ سے ٹھٹھا بنا لیا

ہم کو غم جہاں میں جدھر تک رسائی تھی

تیری حسین آنکھ کا نقشہ بنا لیا

کوئی غزل کہی کبھی تیرے جمال پر

تیری ہنسی کی یاد میں خود کو ہنسا لیا