اک محبت بے دلی کے کام آئی

Omaima Yusuf

اک محبت بے دلی کے کام آئی

بے دلی میں پھر سخن کی شام آئی

تذکرہ کیونکر کریں گے ہم خوشی کا

شاعروں کو جب اداسی کام آئی

اپنے مطلب کی سبھی نے بانٹ لی تھی

بات جتنی جس کسی کے کام آئی

مجھ سوا سب کو پکارا نام لے کر

میرے حصے کی صدا بے نام آئی

ہم محبت کا ولی کہتے ہیں اس کو

جس کے حصے قربتوں کی شام آئی