اب یہی صورت دیدار بنا لیتے ہیں

Omaima Yusuf

اب یہی صورت دیدار بنا لیتے ہیں

ان سے ملنے کا حسیں خواب سجا لیتے ہیں

ہم وہی لوگ تھے ہر بات پہ رونے والے

ہم جو اشکوں کو بھی اب راز بنا لیتے ہیں

ہم ہیں بے رحمیٔ حالات سے واقف پھر بھی

آنکھ میں روز نئے خواب سجا لیتے ہیں

شہر جاناں کے سبھی لوگ ہیں دشمن میرے

دیکھ لینے کو بھی افسانہ بنا لیتے ہیں

کاسۂ چشم کو خیرات میں آنسو دے کر

دل سے یہ بوجھ اداسی کا ہٹا لیتے ہیں

زندگی دیکھتے رہتے ہیں تجھے حیرت سے

اور دیوار سے بس سر کو ٹکا لیتے ہیں