نہ دے جو دل ہی دہائی تو کوئی بات نہیں

Iftikhar Ahmad Fakhr

نہ دے جو دل ہی دہائی تو کوئی بات نہیں

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو مانگنا ہے تجھے صرف ایک در سے مانگ

یہ در بدر کی گدائی تو کوئی بات نہیں

اگرچہ خواہش منزل جنوں کے ناخن لے

خرد کی عقدہ کشائی تو کوئی بات نہیں

مزہ تو جب ہے بجھے تشنگیٔ خار الم

جنون آبلہ پائی تو کوئی بات نہیں

خود اپنے دل کو بنا لے تو آستان وفا

حرم کی ناصیہ سائی تو کوئی بات نہیں

نکل گئی تھی مرے منہ سے دل کی بات جو کل

ہوئی ہے آج پرائی تو کوئی بات نہیں

مے سخن سے نہ پگھلے جو آبگینۂ دل

تو فخرؔ شعلہ نوائی تو کوئی بات نہیں