قربان جاؤں حسن قمر انتساب کے

Iftikhar Ahmad Fakhr

قربان جاؤں حسن قمر انتساب کے

عارض ہیں یا ہیں پھول شگفتہ گلاب کے

اب دن کہاں رہے وہ ہمارے ثبات کے

اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے

ہر اک ادا میں اس کی ہے قوس قزح کا رنگ

ہے گفتگو میں کتنے حوالے کتاب کے

حالات نے جھنجھوڑ کے ہشیار تو کیا

جاگے ہوئے ہیں پھر بھی تو آثار خواب کے

پھیلا چکے ہیں فرقہ پرستی کا زہر وہ

آئے ہیں سامنے جو عدد انتخاب کے

گولی سے حل نہ ہوں گے محبت سے ہوں گے حل

قضیے ہوں کاشمیر کے یا پنچ آب کے

نکلی سروں کی فصل ہے گوبھی کے کھیت سے

کھلتے جہاں یہ پھول تھے کل تک گلاب کے

پیر مغاں سے فخرؔ یہی اک سوال ہے

اوندھے ہیں آج جام و سبو کیوں شراب کے