سن سن کے چپ ہیں طعنۂ اغیار کیا کریں

Iftikhar Ahmad Fakhr

سن سن کے چپ ہیں طعنۂ اغیار کیا کریں

مجبور ہیں وفا کے پرستار کیا کریں

روئیں لہو نہ دیدۂ خوں بار کیا کریں

مجروح جب ہو عشق کا پندار کیا کریں

اظہار حق کے واسطے منصور اب کہاں

باطل پرست حوصلۂ دار کیا کریں

ہو جائے شش جہت نہ کہیں یہ دھواں دھواں

جوش جنوں میں آہ شرربار کیا کریں

ساقی یہ تشنگی سر مے خانہ تا بہ کے

جام و سبو نہ توڑیں تو مے خوار کیا کریں

جب آستین شیخ حرم غرق بادہ ہو

لوگ احترام جبہ و دستار کیا کریں

ہم فخرؔ سرکشوں کے نہ آگے کبھی جھکے

رکھتے ہیں اک طبیعت خوددار کیا کریں