کوئی جہاں میں صاحب ایماں نہ بن سکا
Faisal Fehmiکوئی جہاں میں صاحب ایماں نہ بن سکا
تف ہے کہ عشق مذہب انساں نہ بن سکا
تا عمر طفل دل پہ یتیمی کا کرب تھا
کوشش تو کی مگر میں کبھی ماں نہ بن سکا
یعنی جنوں کے باب میں بھی انتخاب تھا
جو بحر بن گیا وہ بیاباں نہ بن سکا
شہر خرد کے باب حقیقت کا ہر خیال
دشت گماں کی راہ کا امکاں نہ بن سکا
یہ خار زار سب کا گلستاں تو بن گیا
یہ خار زار میرا گلستاں نہ بن سکا