اور تو کچھ نہیں کیا ہوگا
Faisal Fehmiاور تو کچھ نہیں کیا ہوگا
میں نے پھر موت کو جیا ہوگا
اس کے ساگر سے لب لگائے تھے
اس نے اک گھونٹ تو پیا ہوگا
آج بلبل نے اس چنبیلی سے
جانے کیا کان میں کہا ہوگا
ایک باقی چراغ تھا اچھا
اس کو تم نے بجھا دیا ہوگا
کچھ دنوں قبل تک نیا تھا میں
اب جو ہے آج کل نیا ہوگا