عشق کی آج انتہا کر دو
Faisal Fehmiعشق کی آج انتہا کر دو
روح کو جسم سے جدا کر دو
ہے خلاصہ یہی محبت کا
ہو جو اچھا اسے برا کر دو
یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے
اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو
وقت رخصت گلے لگا لینا
آخری بار یہ خطا کر دو
تم مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتی
اپنے حق میں تو فیصلہ کر دو
شبنمی رات کے اندھیرے کو
برہنہ جسم کی قبا کر دو
اب اٹھا دو نقاب چہرے سے
رات کو چاند سے خفا کر دو
ہے کہ دشوار زندگی فہمیؔ
خود کو بیمار با خدا کر دو