سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہوگی

Faisal Fehmi

سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہوگی

کہ اب ہر اک فریاد عنایت بے نوا ہوگی

کسی فرد محبت سے بھلا امید کیا رکھنا

محبت بے وفا تھی بے وفا ہے بے وفا ہوگی

پرانے کاغذوں پہ درج میری شاعری شاید

کسی مجروح دل کے زخم کی مائل ردا ہوگی

کرو گے ظلم کب تک مشورہ ہے باز آ جاؤ

بہت پچھتاؤ گے تم ظلم کی گر انتہا ہوگی

تجسس چھوڑ دے تم قیس و لیلیٰ سی محبت کا

کی دور نو کی ہر تمثیل الفت بے وفا ہوگی