گئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملا
Daood Kaashmiriگئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملا
مگر یہ کیا کہ ہر اک شخص بے قرار ملا
بھلانا چاہا تھا اس کو مگر بھلا نہ سکے
وہ ایک شخص جو رستے میں بار بار ملا
حقیقتوں کو فسانوں میں جب سے الجھایا
فریب و مکر و سیاست کو اعتبار ملا
کسی نے کر دیا برباد اس کا غم بھی نہیں
اسی بہانے زمانے کو رازدار ملا
انہیں تو وار کے موقع ہزار بار ملے
ہمیں دفاع کا موقع نہ ایک بار ملا