ہمدم با خبر میری تنہائیاں

Daood Kaashmiri

ہمدم با خبر میری تنہائیاں

مونس معتبر میری رسوائیاں

تنگیٔ ارض کا مجھ کو شکوہ ہے یوں

آسمانوں کی دیکھی ہیں پہنائیاں

مینڈکوں کی طرح اچھلے تالاب میں

ناپتے کیا سمندر کی گہرائیاں

وہ جو عضو بدن کی طرح ساتھ تھے

یاد ہیں آج بھی ان کی پرچھائیاں

دانش و عقل گمراہ کرتی رہی

زیست کھوتی رہی کتنی برنائیاں