تو نہ پائے گا کہیں ذوق قضا میرے باد
Daood Kaashmiriتو نہ پائے گا کہیں ذوق قضا میرے باد
جو دم مرگ دے قاتل کو دعا میرے بعد
لوگ کترا کے مرے گھر سے گزر جاتے تھے
آج کیوں شہر میں ماتم ہے بپا میرے بعد
تھا فرشتوں کا بھی معبود وہی ایک مگر
اپنی تخلیق پہ نازاں ہے خدا میرے بعد
ہم نے تنہائی سے یاری تو نبھا دی لیکن
یار سے یار کبھی ہو نہ جدا میرے بعد
عہد طفلی سے بڑھاپے کا سفر تھا کہ گھٹن
ختم ہو جائے یہ زہریلی فضا میرے بعد