ساتھ پا کر بھی ڈر گیا کوئی
Daood Kaashmiriساتھ پا کر بھی ڈر گیا کوئی
راستے میں ٹھہر گیا کوئی
کوئی کھڑکی تلک بھی آ نہ سکا
کتنے زینے اتر گیا کوئی
زعم شمشیر کھوکھلا نکلا
خالی ہاتھوں بپھر گیا کوئی
آبلہ پا بھٹکتا رہتا تھا
تم سے مل کر نکھر گیا کوئی
پھول بن کر کھلا تھا اے داؤدؔ
دھول بن کر بکھر گیا کوئی