لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوں

Daood Kaashmiri

لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوں

تیرگی سے کیا ڈرنا روشنی سے ڈرتا ہوں

میں نکل پڑا گھر سے اب سفر میں جو بیتے

آگے چلتے رہنا ہے واپسی سے ڈرتا ہوں

یہ بھی جانور سارے وہ بھی جانور سارے

جانے کیسی بستی ہے آدمی سے ڈرتا ہوں

رہزن خلوص جاں رہزن مسرت ہے

رہنمائی علم و آگہی سے ڈرتا ہوں

سر اٹھا کے جینے کی لذتوں سے واقف ہوں

سر اٹھا کے جینے کی بے حسی سے ڈرتا ہوں