نگاہ یار کا مجھ پہ خمار رہنے دو

Maham Khan (b. 1995)

نگاہ یار کا مجھ پہ خمار رہنے دو

اب ان کے عشق کا مجھ کو شکار رہنے دو

جو روبرو ہو تو جی بھر کے دیکھ لینے دو

تم آج وعدۂ قول و قرار رہنے دو

یہ طے ہے ساعت فرقت کا غم بھی سہنا ہے

فصیل عشق میں راہ فرار رہنے دو

سبق نہ مجھ کو سکھاؤ اب عقل و دانش کا

کہ میرا عاشقوں میں ہی شمار رہنے دو

چکا نہ پائیں گے تیرا یہ قرض مہر و وفا

سو کچھ دنوں کی محبت ادھار رہنے دو

یوں میرے سامنے تم جلوہ گر ہوا نہ کرو

جو مجھ میں حوصلہ ہے برقرار رہنے دو

جو شب کے آخری پہروں میں تم بھی ماہمؔ کو

پلٹ کے دیکھتے ہو بار بار رہنے دو