نظر تم پر پڑے تو مسکرانا بھول جاتے ہیں

Maham Khan (b. 1995)

نظر تم پر پڑے تو مسکرانا بھول جاتے ہیں

ہم اپنی داستان غم سنانا بھول جاتے ہیں

ہمیشہ سوچتے ہیں ہم اسے کھونا نہیں مشکل

ہم اپنی قوت دل آزمانا بھول جاتے ہیں

جہاں ساقی کا لمحے بھر کو بھی دیدار ہو جائے

جنون تشنگی کا وہ زمانہ بھول جاتے ہیں

یہ زنجیریں یہ پابندی نہیں کچھ فائدہ دیتیں

پرندے قید ہوں تو چہچہانا بھول جاتے ہیں

ابھرتے چاند کا منظر یا جلوے ہوں بہاروں کے

ترے آگے سب اپنا قہر ڈھانا بھول جاتے ہیں

غم بربادیٔ گلشن سے گل بھی اس قدر سہمے

دکھی چہرے پہ اک مسکاں سجانا بھول جاتے ہیں

بلندی سے گرانے کے لیے کوشاں ہیں جو ماہمؔ

فلک تیرا ازل سے آشیانہ بھول جاتے ہیں