تیر الفت ابھی کمان میں ہے
Maham Khan (b. 1995)تیر الفت ابھی کمان میں ہے
وہ مرے دل نہیں دھیان میں ہے
روند کر آشیانۂ غمگیں
موج دریا بھی اطمینان میں ہے
وعدۂ صبح تھا مگر کمبخت
ہجر کی رات درمیان میں ہے
اشک آنکھوں میں اس طرح ٹھہرے
جیسے چشمہ کسی چٹان میں ہے