نہیں خود پر بھی قابو اور خدائی چاہتے ہیں ہم
Maham Khan (b. 1995)نہیں خود پر بھی قابو اور خدائی چاہتے ہیں ہم
وہ ٹھہرا چاند اور اس تک رسائی چاہتے ہیں ہم
تری کوئی ادا تو یوں عیاں ہو جائے گی ہم پہ
تری جانب سے جاناں بے وفائی چاہتے ہیں ہم
محض خوابوں خیالوں میں ترا دیدار ہو کب تک
حقیقت میں بھی تجھ سے آشنائی چاہتے ہیں ہم
پئیں ساقی کے ہاتھوں سے مئے الفت پئیں جب بھی
مرے ناصح بس اتنی پارسائی چاہتے ہیں ہم
ہم اب غرق تخیل ہیں بس اپنی ذات میں اتنے
سوا ان کے ہر اک سے ہی جدائی چاہتے ہیں ہم