کاش اتنا تو مرے پاس کبھی آ جائے

Paraveen Rai (b. 1995)

کاش اتنا تو مرے پاس کبھی آ جائے

بیچ سے ہو کے ہوا جائے تو شرما جائے

یہ تیری یاد کا آنا بھی ہے کچھ ایسا ہی

جیسے مہمان اچانک سے کوئی آ جائے

اس لئے بھی میں تجھے یاد کیا کرتا ہوں

کیا پتہ کل کو یہ اگزام میں پوچھا جائے

کاش ایسا ہو کہ اے یار کسی دن مجھ سے

راہ چلتے ہوئے اک بار تو ٹکرا جائے

ایک میں ہوں جو تجھے دیکھ کے پگلا جاؤں

ایک تو ہے جو مجھے دیکھ کے شرما جائے

یوں لگے گا کے کوئی چاند چھپا ہو جیسے

یہ تری زلف جو چہرے پہ ترے آ جائے

میں یہی سوچ کے چھونے سے تجھے ڈرتا ہوں

یہ تری آگ مرا جسم نہ جھلسا جائے