دھڑکنوں میں کھنچاؤ دریا کا

Paraveen Rai (b. 1995)

دھڑکنوں میں کھنچاؤ دریا کا

عشق کیا ہے بہاؤ دریا کا

وصل جیسے چڑھاؤ دریا کا

ہجر جیسے کٹاؤ دریا کا

آنکھ جیسے چناب جھیلم ہوں

ہونٹ جیسے گھماؤ دریا کا

ڈوب جائے نہ دل ہمارا اب

دیکھ کر کے لگاؤ دریا کا