دل کے سوئے ہوئے زخموں کو جگا جاتی ہے

Paraveen Rai (b. 1995)

دل کے سوئے ہوئے زخموں کو جگا جاتی ہے

یاد ماضی کی ہوا جب بھی یہاں آتی ہے

حال اب یہ ہے کہ مرنے کو ہیں آمادہ ہم

عشق کی راہ خطرناک ہوئی جاتی ہے

ایک لڑکا جو محبت میں مرا جاتا ہے

ایک لڑکی جو ترس تک بھی نہیں کھاتی ہے

ہم ابھی روح ہی ہونے کو چلے ہیں تو تو

جسم سے جان نکل کر کے کہاں جاتی ہے

تب کہیں جا کے زمانہ کا بھرم کھلتا ہے

زندگی جیتے جی جب لاش بنا جاتی ہے