اس طرح محبت نے کچھ ہمیں سنوارا ہے

Paraveen Rai (b. 1995)

اس طرح محبت نے کچھ ہمیں سنوارا ہے

درد میں بھی شدت ہے زخم بھی کرارا ہے

اب تو جان جاناں کی دھندھلی دھندھلی یادیں ہیں

اور اس کی یادوں کا ہی فقط سہارا ہے

یوں تو اس سے بچھڑے اب مدتیں ہوئیں لیکن

دل ابھی بھی کہتا ہے وہ ابھی ہمارا ہے

اس سے ہی تو چلتے ہیں کاروبار گلشن کے

وہ ہی رات رانی ہے وہ ہی گل ہزارہ ہے

جس طرح تڑپ کر یہ رو رہا ہے پاگل دل

دیکھنے سے لگتا ہے پیار کا یہ مارا ہے

کیجیے تہ دل سے شکریہ محبت کا

آبلے ہیں پاؤں میں دل میں اب شرارہ ہے