منتظر ہے تبھی دوام مرا
Saba Tabish (b. 1999)منتظر ہے تبھی دوام مرا
آگہی سے بھرا ہے جام مرا
خود بخود جا کے زخم کھا آؤں
کون لیتا ہے انتقام مرا
رام اب تک مجھے پکارتا ہے
گوپیاں سن رہی ہیں نام مرا
میرے گھاؤ پہ ہے نمک موجود
تجھ سے اچھا ہے اہتمام مرا
نسبت شعر مجھ کو حاصل ہے
لوگ کرتے ہیں احترام مرا
مجھ سے گویائی رب نے چھینی ہے
خامشی جیسا ہے کلام مرا