حصار ہجر کے جغرافیے سمجھ آئے

Saba Tabish (b. 1999)

حصار ہجر کے جغرافیے سمجھ آئے

جب اپنے دور ہوئے مرثیے سمجھ آئے

میں واپس آ کے بتاؤں گی ان کا حال تمہیں

اگر مزار پہ جلتے دیے سمجھ آئے

تمہارے عشق کی ان ساعتوں کے بعد ہمیں

مصوری کے نئے زاویے سمجھ آئے

تراش ڈالوں گی الفاظ کو بہ صورت شعر

وہ لکھنے والے نے لکھے تھے بغض میں جل کر

مورخین کو جو حاشیے سمجھ آئے

ہمیں پسند نہ تھا مشکلوں میں رہنا بھی

سو جتنے روز جہاں میں جیے سمجھ آئے

بہت سے نقش ادھورے ہیں اب تلک تابشؔ

بہت سے لوگ تمہارے لیے سمجھ آئے