ترے دماغ میں بچپن کی لاش تھوڑی ہے

Saba Tabish (b. 1999)

ترے دماغ میں بچپن کی لاش تھوڑی ہے

مری طرح تجھے فکر معاش تھوڑی ہے

ہمارے ہاں تو نہیں چلتا حکم کا اکا

ہمارا کھیل محبت ہے تاش تھوڑی ہے

جہاں سے چاہا اٹھا کر چکھا رکھا واپس

شعور ذات کسی پھل کی قاش تھوڑی ہے

چھپانا پڑتا ہے دل کا معاملہ اکثر

اکیلے ملتے ہیں یہ راز فاش تھوڑی ہے

صباؔ کسی کے لیے در بدر نہیں رہتی

خدائی کو بھی خدا کی تلاش تھوڑی ہے