پرندے اس کے لیے ہیں رسول اس کا ہے
Saba Tabish (b. 1999)پرندے اس کے لیے ہیں رسول اس کا ہے
ہماری بات میں ہر دم شمول اس کا ہے
علم کو چوم کے پڑھتے ہیں مدح رب علی
کہ سب سے پہلے تو ابن البتول اس کا ہے
مفاعلات ہے اس کا فعول اس کا ہے
یہاں کے رسم و رواج اب نہیں مرے بس کے
میں چل رہی ہوں لگن سے اصول اس کا ہے
حسین وہ ہے سو دنیا اسے حسین کہے
قریب وہ ہے سو قربت کا پھول اس کا ہے
مرا یہ حق ہے کہ میں اس پہ اعتبار کروں
منافقت ہے کہ حلف ال فضول اس کا ہے
صباؔ چلی تو اڑے پنچھیوں کے ہوش و حواس
کہ راہ بحر میں صحرا ببول اس کا ہے