ہمارے جینے کی آسانی چھین لیتا ہے

Vihan Gupta Garg (b. 1999)

ہمارے جینے کی آسانی چھین لیتا ہے

جگا کے پیاس خدا پانی چھین لیتا ہے

شب فراق وہ آتی ہے خواب میں ملنے

یہ وصل ہجر کی ویرانی چھین لیتا ہے

میں دیکھ لیتا ہوں ہنستا ہوا ترا چہرہ

یہ میری ساری پریشانی چھین لیتا ہے

فریبی دوست پہ کیسے میں اعتبار کروں

یہ جذبہ شاہوں سے سلطانی چھین لیتا ہے

وہ مانگتا نہیں ہے اپنا حق کسی سے بھی

وہ مانگتا نہیں ہے یعنی چھین لیتا ہے