میں اس لئے بھی کسی سے وفا نہیں کرتا

Vihan Gupta Garg (b. 1999)

میں اس لئے بھی کسی سے وفا نہیں کرتا

نہیں ہے ایسا کوئی جو دغا نہیں کرتا

تمہارے حصہ میں آیا ہوا دیا ہوں میں

دیا جو آندھی سے بالکل ڈرا نہیں کرتا

جہان بھر کی در دل پہ بھیڑ ہو لیکن

سوا ترے یہ کسی پر کھلا نہیں کرتا

یہ دیکھنا ہے کہ اظہار عشق پر میرے

وہ گل بدن مجھے ہاں کرتا یا نہیں کرتا

اب اک ثمر بھی نہیں شجر خواہشات پہ دوست

میں تیرے بعد کسی کی دعا نہیں کرتا

میں تجھ کو چاہتا ہوں لیکن ایک مشکل ہے

کبھی کبھی مرا چاہا ہوا نہیں کرتا

مری خوشی کے لیے کچھ نہیں کیا تو نے

تری خوشی کے لیے تو میں کیا نہیں کرتا