اپنے سینے میں دبائے ہوئے غم رکھا ہے

Faisal Qadri Gunnauri (b. 1995)

اپنے سینے میں دبائے ہوئے غم رکھا ہے

ہم نے ہر حال میں الفت کا بھرم رکھا ہے

تجھ سے دوری کا نہ احساس کبھی ہو مجھ کو

دل میں یادوں کو تری یوںہی صنم رکھا ہے

دیکھ لے ایک نظر دم تو سکوں سے نکلے

تیرے بیمار کا اٹکا ہوا دم رکھا ہے

رب کی مرضی کے بنا ہوتا نہیں ہے کچھ بھی

اس نے ہر شخص کو محتاج کرم رکھا ہے

تو ہمیں یاد کرے یا نہ کرے پر ہم نے

ہر گھڑی یاد تجھے تیری قسم رکھا ہے

ہم کو تلوار کی پیش آتی ضرورت کیسے

جیب میں ہم نے ہمہ وقت قلم رکھا ہے

میں سمجھتا ہوں کہ سب سوچ سمجھ کر فیصلؔ

تم نے دہلیز محبت پہ قدم رکھا ہے