مدتوں بعد اسی شخص کی یاد آئی ہے

Faisal Qadri Gunnauri (b. 1995)

مدتوں بعد اسی شخص کی یاد آئی ہے

شخص بھی وہ جو کہ مدت ہی سے ہرجائی ہے

اب کہاں جاؤ گے کس در پہ دہائی دو گے

اس زمانے میں تمہاری کہاں سنوائی ہے

اور کی سمت کیوں انگشت نما ہے پیارے

تیرا کردار ہی تیرے لیے دکھ دائی ہے

باغباں تجھ سے چمن خوف زدہ ہے سارا

گل ہیں خاموش سبھی ہر کلی مرجھائی ہے

زخم دینا ترا پھر ان پہ لگانا مرہم

واہ کیا خوب یہ انداز مسیحائی ہے

ویسے اس دور میں مشکل ہے گزارا کرنا

اور اس پر یہ ستم توڑتی مہنگائی ہے

وقت بدلا تو وہ یہ بھول گئے ہیں فیصلؔ

عمر بھر ساتھ نبھانے کی قسم کھائی ہے