حال کیا کر دیا دوانے کا
Faisal Qadri Gunnauri (b. 1995)حال کیا کر دیا دوانے کا
شکریہ مجھ کو آزمانے کا
یہ بہانا دیا جگانے کا
اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا
میرے حالات کیا ذرا بگڑے
رخ بدلنے لگا زمانے کا
میں حسینوں کے دل میں رہتا ہوں
یہ پتہ ہے مرے ٹھکانے کا
ہم سے ملنا نہیں تو گھر جاؤ
فائدہ کیا ہے دل جلانے کا
چین کی نیند سوئے گا فیصلؔ
کاش تکیہ ہو تیرے شانے کا