سارا قصہ تمام ہونے کو ہے
Faisal Qadri Gunnauri (b. 1995)سارا قصہ تمام ہونے کو ہے
دل کسی کا غلام ہونے کو ہے
مجھ سے وہ ہم کلام ہونے کو ہے
ایسا لگتا ہے کام ہونے کو ہے
سارا دن انتظار میں گزرا
اب تو آ جاؤ شام ہونے کو ہے
عاشقوں کا لگا ہے اک مجمع
جلوۂ یار عام ہونے کو ہے
ہائے افسوس کچھ نہ کر پائے
زیست کا اختتام ہونے کو ہے
دل میں ہلچل یہ کیسی ہے فیصلؔ
کیا کسی کا قیام ہونے کو ہے