جب آئنوں کو بھی دھندلا دکھائی دینے لگا

Faisal Qadri Gunnauri (b. 1995)

جب آئنوں کو بھی دھندلا دکھائی دینے لگا

میں اپنے آپ ہی اپنی صفائی دینے لگا

صدا غریب کی آئے کہاں سے کانوں تک

امیر شہر کو اونچا سنائی دینے لگا

خطا یہ اس کی نہیں تھی صلہ بھلائی کا تھا

وہ جاتے وقت جو مجھ کو برائی دینے لگا

مخالفوں کو مرے فتح کیوں نہ ہوتی نصیب

مرے خلاف گواہی جو بھائی دینے لگا

مریض ہجر ہوں آرام وصل سے ہوگا

طبیب کیا مرے غم کی دوائی دینے لگا

شب فراق جو تنہائیوں نے تنگ کیا

میں اپنے یار کو فیصلؔ دہائی دینے لگا