بدن کے دشت میں کچھ درد کے آہو نکلتے ہیں
Yasir Guman (b. 2001)بدن کے دشت میں کچھ درد کے آہو نکلتے ہیں
مری غزلوں میں اس خاطر نئے پہلو نکلتے ہیں
میں حیراں ہوں کہ مجھ کو تم ملی ہو کن ثوابوں سے
گنہ گاروں کی قبروں میں تو بس بچھو نکلتے ہیں
بہت لاچار ہوتے ہیں دیار عشق میں وہ بھی
جو دنیاوی روابط میں بڑے بابو نکلتے ہیں
نظر پڑتی ہے جب میری تری چھوڑی نشانی پر
مری آنکھوں سے آنسو ہو کے بے قابو نکلتے ہیں
مرا دل ہے پرانے دور کی تیرہ شبی کا گھر
تری یادوں کے چمگادڑ یہاں ہر سو نکلتے ہیں
ہمی کو دیکھ کر آنکھوں سے وہ پردہ اٹھاتا ہے
ہمارے قتل کو ہر سمت سے چاقو نکلتے ہیں