مرا کلیجہ مرے منہ کو آ نہ جائے کہیں
Yasir Guman (b. 2001)مرا کلیجہ مرے منہ کو آ نہ جائے کہیں
تمہارے جانے کا احساس کھا نہ جائے کہیں
وہ دیکھتا ہے تو بس دیکھتا ہی رہتا ہے
وہ نامراد مرے دل کو بھا نہ جائے کہیں
کماں سنبھال کے رکھوں میں اپنے ہاتھوں میں
مرا ہی تیر مری سمت آ نہ جائے کہیں
وہ مل رہا ہے کسی دوسرے سے ہنس ہنس کر
سو اس کا ہنسنا بھی مجھ کو رلا نہ جائے کہیں
میں اس سے بات ہی کرتا نہیں ہوں اس خاطر
وہ بات کر کے مرا سر گھما نہ جائے کہیں
مجھے یہ ڈر ہے وہ اوزار بے وفائی سے
محبتوں کی عمارت گرا نہ جائے کہیں