محبت کے جزیروں میں دراڑیں آ گئی ہیں

Yasir Guman (b. 2001)

محبت کے جزیروں میں دراڑیں آ گئی ہیں

زمین دل کی راہوں میں دراڑیں آ گئی ہیں

عمارت ٹوٹ کر گرنے ہی والی ہے غزل کی

سخن سازوں کے مصرعوں میں دراڑیں آ گئی ہیں

حسد کے ایک دم اٹھتے ہوئے طوفاں کے باعث

زمیں والوں کے رشتوں میں دراڑیں آ گئی ہیں

ہوئے جب فکر میں شامل کئی غیروں کی باتیں

نئی نسلوں کی سوچوں میں دراڑیں آ گئی ہیں

گمان خوش نما اس واسطے اچھا لگا ہے

یقیں والوں کی باتوں میں دراڑیں آ گئی ہیں