دل کے خانے میں پڑی ہیں تیری یادیں تہ بہ تہ

Yasir Guman (b. 2001)

دل کے خانے میں پڑی ہیں تیری یادیں تہ بہ تہ

وقت کی بنجر زمیں پر ہیں یہ قبریں تہ بہ تہ

موت منزل ہے سو میں رستے میں پڑھنے کے لیے

رکھ رہا ہوں زندگی کی کچھ کتابیں تہ بہ تہ

اس طرح ترتیب سے رکھنا مجھے میرے رفیق

جس طرح رکھی ہیں رب نے یہ زمینیں تہ بہ تہ

جن میں پھنس کر پھڑپھڑاتا ہی رہوں میں رات بھر

ایک جالے کی طرح ہے تیری سوچیں تہ بہ تہ

اس لئے منظر مجھے اب دکھ رہے ہیں کچھ کے کچھ

میرے چہرے پر لگی ہیں کور آنکھیں تہ بہ تہ

چیدہ چیدہ ہے غزل کے دشت میں باتیں مری

قید نظموں کی طرح ہیں تیری باتیں تہ بہ تہ

اب مجھے ڈھونڈے گا حاکم شہر کا یاسر گمانؔ

میں چھپائے پھر رہا ہوں ساری خبریں تہ بہ تہ