یہ سفید صفحوں کے ہنس ہیں انہیں روشنائی پہ چھوڑ لوں

Lucky farooqi Hasrat (b. 1990)

یہ سفید صفحوں کے ہنس ہیں انہیں روشنائی پہ چھوڑ لوں

میں خیال و فکر کی جھیل سے کوئی ربط باہمی جوڑ لوں

ہو سیاہ شب ترا اذن گر تو نشیلے ہونٹوں کی نوک سے

میں گلابی چاند کی مرمریں سے پہاڑیوں کو جھنجھوڑ لوں

یہ عنایتوں کے ببول کا ہرا کانٹا میری طلب نہیں

مرے آبلے بڑے نرم ہیں انہیں سوکھی گھاس پہ پھوڑ لوں

مری تشنگی کو نصیب ہو تری قربتوں کی شراب گر

میں بدن کے خالی گلاس میں ترا رنگ روپ نچوڑ لوں

ذرا باغباں کی نظر ہٹے تو میں انگلیوں سے وصال کی

ترے تن کی سانولی بیل سے کئی پھول بوسے کے توڑ لوں