سوچوں کی پالکی میں بٹھا کر سطور کو

Lucky farooqi Hasrat (b. 1990)

سوچوں کی پالکی میں بٹھا کر سطور کو

کاغذ پہ کھینچ لایا ہوں جنت کی حور کو

سر پر چڑھا کے رکھتا ہوں مستی کے جام سے

اک سانولے بدن کے گلابی سرور کو

اک چیخ ماجرے کی حقیقت بتا گئی

غوطہ لگا کے آنا تھا کیچڑ میں نور کو

ملتی ہیں صبح و شام تشدد کی روٹیاں

غربت کی تنگ جیل میں بھوکے غرور کو

ایسے غزل کے چہرے پہ رونق نہ آئے گی

لفظوں کے ریگ مال سے گھسیے شعور کو